ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شاہین باغ معاملہ:سنجے ہیگڈے مذاکرات کار مقرر، سماعت اگلے پیر تک ملتوی

شاہین باغ معاملہ:سنجے ہیگڈے مذاکرات کار مقرر، سماعت اگلے پیر تک ملتوی

Tue, 18 Feb 2020 11:11:59    S.O. News Service

نئی دہلی،18/فروری (ایس او نیوز/یو این آئی) سپریم کورٹ نے دہلی کے شاہین باغ مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے پر راضی کرانے کے لئے پیر کو سینئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڈے کو مذاکرات کار مقرر کیااور معاملے کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسٹر ہیگڈے کو اپنے تعاون کے لئے دو مزید افراد کے انتخاب کی اجازت دی۔ تاہم، اس کے لئے مسٹر ہیگڈے نے خود سینئر ایڈوکیٹ سادھنا رام چندرن کے نام کی تجویز کی۔دریں اثنا عدالت نے درخواست گزاروں بی جے پی رہنمانند کشور گرگ اور امیت ساہنی کی درخواست مسترد کردی کہ عدالت شاہین باغ مظاہرے کے مقام کو کم از کم ایمبولینسوں اور اسکولوں کی بسوں کی آمد و رفت کے لئے عبوری حکم دے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ سینئر وکیل سادھنا رام چندرن راستہ روک کر بیٹھے لوگوں سے بات کرکے انہیں متبادل جگہ احتجاج کے لئے سمجھائیں گے۔ مسٹر ہیگڈے کی ٹیم مظاہرین سے بات کرکے ان کو قائل کرنے کوشش کر ے گی اور سماعت کی اگلی تاریخ 24 فروری کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔سماعت کے دوران جسٹس جوزف نے کہا کہ لوگوں کو مظاہرہ کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا،“ہم سی اے اے کی بات نہیں کر رہے ہیں، لیکن لوگوں کو مخالفت کرنے کا، مظاہرہ کرنے کا حق ہونا چاہئے۔بینچ نے کہا کہ جس مسئلے کو لے کر دھرنا مظاہرہ چل رہا ہے۔سماج کا ایک حصہ کسی قانون سے متفق نہیں ہے لیکن یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے، ہم دھرنے پر کچھ نہیں کہہ رہے ہیں۔جسٹس کول نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ احتجاج کا حق نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ احتجاج کہاں کیا جائے، آج احتجاجی مظاہرہ یہاں ہورہا ہے کل کہیں اور ہوگا، اگر ایسے ہی جاری رہا تو شہر کے مختلف علاقے بلاک ہو جائیں گے۔عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا پبلک مقامات دھرنے کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ مظاہرہ اس طرح ہونا چاہئے کہ سڑک کو بلاک نہ کیا جائے۔جسٹس کول نے کہاکہ ہماری فکر اس بات کو لے کر ہے کہ اگر اس طرح سڑک یا عوامی جگہ کو بلاک کیا جانے لگا تو دقت ہو گی۔ احتجاج کی وجہ کتنی بھی واجب کیوں نہ ہو، سڑک کو ایسے بلاک کرنا ٹھیک نہیں۔عدالت نے کہا کہ جمہوریت لاکھوں اظہار رائے سے ہی چلتی ہے لیکن اس کی ایک حد ہے۔ اگر تمام لوگ سڑک بند کرنے لگیں تو مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔ ٹریفک نہیں بند ہونی چاہئے۔ اس طرح کے سڑک بند کرنے سے کل لوگ کہیں اور کسی معاملے میں سڑک پر مظاہرہ کریں گے۔ یہاں سے آئیڈیا لے کر، اس کی فکر یہ ہے۔سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مظاہرین کا اس طرح شہر کو یرغمال بنا کر رکھ دینا کہیں سے بھی جائز نہیں ہے، راستے کو مکمل طور پر بلاک کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بچوں اور عورتوں کو مظاہرین ڈھال بنا رہے ہیں، ہم نے ان سے میٹنگ بھی کی۔ سمجھانے کی کوشش کی، لیکن مظاہرین شہر کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔سالیسٹر جنرل نے کہاکہ ہم نے وہاں کے لوگوں سے ملاقات بھی کی بھی اور ان کو سمجھایا کہ وہ اس طرح سے شہر کے ایک حصے کو بند نہیں کر سکتے۔ ہم نے دکان کے ویلفیئر اسوسی ایشن اور ریزنڈنٹ ویلفیئر اسوسی ایشن سے بات کی”ْ۔کورٹ نے عدالت کے کمرے میں موجود وکیل سنجے ہیگڈے سے کہا کہ وہ مظاہرین سے بات کرکے انہیں سمجھانے کی کوشش کریں۔جسٹس کول نے مسٹر ہیگڈے سے پوچھاکہ آپ خاموش کیوں بیٹھے ہیں، آپ مظاہرین سے بات کرکے ان کو سمجھائیے۔اس دوران مسٹر مہتا نے کہاکہ ایسا پیغام نہیں جانا چاہئے کہ انسٹی ٹیوٹ (عدالت) ان کے سامنے جھک رہی ہے۔ ہم نے اپنی خواہش ظاہر کر دی ہے۔توقع ہے کہ چیزیں بدلیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو حکومت اپنے حساب سے ایکشن لینے کے لئے آزاد ہو جائے گی۔


Share: